نومبر کی سردی میں پیٹروں سے جھڑنے والے پتے اُس درخت کی خوبصورتی اور حُسن کو ساتھ لیے زمین پر گرتے ہیں کہ جس نےکبھی اُنہیں جنم دے کر گردو نواح کی ہوا کو خوشبو سے سینچا تھا ۔ اور ہر آنے والی بہار اس کمزور اور ننگے درخت پر ترس کھا کر اس کی خستگی کو پھولوں کی چادر سے ڈھانپتی ہے ، اور اُس کودوبارہ اک نیا حُسن اوراِک نئی جوانی بخشتی ہے۔ کارخانہ قدرت میں یہ سلسلہ صدیوں پر محیط ہے اور آج بھی پوری قوت سے جاری و ساری ہے ۔ پھر نہ جانے کیوں ہر بہار میں پھولوں اور پھلوں کے بوجھ سے جھُکا ہوا درخت، اپنی دلکشی کے نشے میں دُھت ،آنے والی خزاں سے بے خبر رہتا ہے؟ اورنہ جانے کیوں ہر پت جھڑ کے موسم میں وہی درخت اپنی موجودہ حالت سے باخبر رہ کر آنے والی بہار کی مسرتوں سے مایوس رہتا ہے ؟
کہتے ہیں کہ اگر انسان کی زندگی اُس کی آزاد خواہشات اور خوابوں کے برعکس ہو تو انسان صرف زندہ ہوتا ہے ، “جیتا” ہر گز نہیں ۔ نومبر 2009 کی پہلی یخ بستہ صبح درختوں کے لیے آنے والی خزاں کا پیغام تو لائی ہی تھی، البتہ میرے لیے یہ طے ہونا ابھی باقی تھا کہ یکم نومبر کا یہ سرد دن میری زندگی میں پچھلے چار سالوں سے جاری خزاں کی طوالت کا پیغام ہے یا پھر ایک نئی بہار کی نوید؟
پچھلے چار سالوں سے کیڈٹ کالج میں فوجی تربیت حاصل کرتے ہوئے میں اب یہ فیصلہ کر چکا تھا کہ اب میں اپنی بقیہ زندگی ایک ” سولین ” کی طرح گزاروں گا۔ میرےمستقبل کی فکر نے مجھے اُسی طرح گھیرا ہوا تھا جیسے دھند نے لاہور کی خوبصورتی کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا اور میں گورنمنٹ کالج لاہور کا لال کوٹ پہنے بس نمبر 5 کا انتظار کر رہا تھا ۔
ٹھیک ساڑھے چھ بجے گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کی بس اپنے مقررہ کردہ سٹاپ پر آ گئی ۔ جیسے ہی میں بس کے اندر داخل ہوا تو بس کے عین عقب سے ایک آواز بلند ہوئی “لو جی !اک نیا کوُکڑ آیا جئے” بس کی فضا میں ایک بلند قہقہہ چنگاری کی مانند بلند ہوا ، اور فوراً ہی بس کے چلنے کے شور میں گم ہو گیا ۔ ایک لمبے قد اور مضبوط جسم کا لڑکا میری جانب آیا۔ کچھ دیر تو وہ چیونگم چباتے ہوئے مجھے سر سے پاؤں تک گھورتا رہا ،پھر اچانک بولا “ناچنا آتا ہے ؟” چونکہ میں نے کالج کے پہلے دن کی ریگنگ کے مزاحیہ مگر دل دہلا دینے والے تمام قصے کہانیاں سن رکھیں تھیں ، لہذا میں اپنے آپ کو ذہنی طور پر تیار کر چکا تھا ۔ اپنے سینئرز کی عجیب سی فرمائش پر ایک بہیودہ رقص پیش کیا اور پھر ایک خالی سیٹ دیکھ کر اُس پر بیٹھ گیا ۔ بس خراما خراما آگے بڑھتی گئی اور میرے سینئرز میری پیٹھ تھپتھپاتے رہے ۔
ڈرائیور نے سی۔ ایم ۔ ایچ سے تھوڑا پہلے بس روکی اور تب تک میں تمام دادا وصول کر کے بیٹھ چکا تھا ۔کچھ تاخیر کے بعد ایک لڑکی بس کی سیڑھیوں پر اپنی جوتی سے َٹک َٹک کر کے چڑھتی ہوئی بس کے اندر داخل ہوئی ۔ اُس کے گیلے بال اُس کے نرم رخسار کا بے جھجھک بوسہ لے رہے تھے ۔ اُس کے سر پر ململ کا دوپٹہ مشرقی ثقافت کی سادگی اور حُسن کے تمام حسین پہلوؤں کی وکالت کر رہا تھا ۔ اُس کے کپڑوں پر لگا دلکش اور اپنی جانب مائل کرتا ہوا عطر بس کی فضا کو مہکا کر کسی دیوی کی موجودگی کا چیخ چیخ کر اعلان کر رہا تھا۔ مختصرا ً یہ کہ میں شاید ہلاک ہو چکا تھا۔
وہ کھڑی کسی خالی سیٹ کو ڈھونڈ رہی تھی اور میں ریگنگ سے فراغت کے بعد حیرانی ، تجسس اور خوف کی ملی جلی کیفیت میں مبتلا اِس دیوی کو دیکھ رہا تھا ۔ اچانک ایک آواز بس کی خاموشی کو چیرتی ہوئی بلند ہوئی “یہاں آ جاؤ ۔” یہ آواز اُس کی سہیلی نے دی تھی ۔ اگلے کئی سالوں تک میں اور میرے یار اس لڑکی کو “سائے ” کے نام سے پکارتے رہے ۔ حقیقتاًوہ لڑکی دیوی کا سایہ ہی تو تھی ۔ جیسے سائے کا جسم سے جدا ہونا ناممکن ہے بالکل اُسی طرح وہ لڑکی بھی دیوی سےکبھی الگ تھلگ نہ دکھائی دی۔
بچپن سے آل بوائز سکولوں میں پڑھنے کے باعث میں ہر اُس طریقے سے نا واقف تھا کہ جس سے کسی لڑکی کو اپنی داستان ِ دل سنائی جا سکے۔ میرا تخیل بنجر اور میرا ذہن تخلیقی صلاحیتوں سے خالی تھا ۔ ایسے میں میں نے اپنے دوست احباب کی طرف رجوع کیا ۔ مگر اُن کے بھونڈے مشوروں اور بے بنیاد مردانگی کے طعنوں نے مجھ پر یہ باور کروایا کہ خیالات کا قحط صرف مجھ میں ہی نہیں بلکہ عام عوام الناس میں بھی پایا جاتا ہے اور خصوصاً لڑکوں میں یہ بانجھ پن اپنی پوری شدت سے موجود ہے ۔
جب محبت کے جذبات میں مزید حرارت آئی تو سوچا کیوں نا اظہار کر کے دل کی شرارت پر قابو پایا جائے۔ میرے اس فیصلے میں دوستوں کی شراکت و مفاہمت شامل تھی ۔ لہذا موسم گرما کی تعطیلات سے پہلے 10 جون کا دن اظہار محبت کے لیے طے پایا ۔ اس فیصلہ کن اور کٹھن دن سے پہلے میں نے ان گنت مرتبہ اپنا دل کا حال بتلانے کی مشق کی اور ہر بار مجھ پر یہ عیاں ہوا ، کہ میں یہ کام بخوبی سر انجام دے پاؤں گا۔ لیکن 10 جون سے قبل میں ہر اُس شخص سے معافی مانگنا چاہتا تھا کہ جس کی کھِلی میں نے صرف اس لیے اُڑائی تھی ، کیونکہ میری طرح وہ بے چارہ بھی کہیں نہ کہیں دل ہار چکا تھا ۔10 جون تک ہر شعر ، ہر غزل، ہر نغمے اور گانے کا مطلب کچھ عجب ہی انداز میں سمجھ آتا تھا۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ جیسے ہر بند شاید میرے ہی جذبات کی ترجمانی ہے۔ جیسے جیسے 10 جون قریب آتی گئی، ویسے ویسے میری ہمت اور حوصلہ ریت کی طرح میری انگلیوں سے پھسلتا گیا۔
ایک رات پہلے کی بارش نے گرمی کا زور توڑ دیا تھا ۔ہوامیں مٹی کی بھینی بھینی خوشبو نے نئی صبح کو کچھ مزید ہی رومینٹک بنا دیاتھا ۔ 10 جون کی صبح کو وہ کلاک ٹاور کے سامنے سفید شلوار قمیض میں ملبوس کسی کہانی کی پری بن کر کھڑی تھی ۔ جیسے جیسے میرے قدم اُس پری نما دیوی کی طرف بڑھتے گئے ، ویسے ویسے میرے دل کی دھڑکن شدت پکڑتی گئی ۔ میں”میں ۔۔۔۔ جی ۔۔ ۔ وہ ۔۔۔ ذرا ” سے آگے نہ بڑھ پایا ۔ میں نے اُس دن جانا کہ محبت میں خاموشی کی بھی ایک زبان ہوتی ہے ۔ دل کے دھڑکنے کے بھی اپنے سابقے اور لاحقے ہوتے ہیں ۔ آنکھیں بھی اپنے پاس الفاظ کا ایک وسیع ذخیرہ رکھتیں ہیں۔ مسکراہٹ کے بھی کچھ معنی ہوتے ہیں ۔ ہوا چغلی اور دھوپ بھی غیبت کرتی ہے ۔ شاید میری آنکھوں میں ذرا سی پیدا ہونے والی چمک اُس سے سب کچھ کہہ گئی ۔ شاید میری خشک حلق کی سازش ناکام ہو گئی ۔ شاید اُس کے پتلے اور ملائم ہونٹوں کی ہسنی”ہاں ” کر گئی یا پھر اُس کی میٹھی کھکھلاہٹ اپنی پرستش کرنے والوں کی لمبی فہرست میں مجھے کھڑا کر گئی ۔ میں فقط اِک سنگ مرمر کے بُت کی طرح ٹھنڈا اور ساکن تھا ۔ 10 جون کے بعد میں اُس سے کبھی نظریں نہ ملا پایا۔
یہ آپ بیتی نما افسانا اُسی سی۔ایم ۔ایچ کے بس سٹاپ کے سامنے والے چائے خانے پر بیٹھ کر بُنا گیا ہے جہاںروازانہ بس کی طرح میری دھڑکن بھی کچھ دیر کے لیے رُکا کرتی تھی ۔ رات کا ایک بج چکا ہے اور پچھلے دو گھنٹوں کے لگاتار لکھنے سے میرے دائیں ہاتھ کے پھٹے جواب دے گئے ہیں ۔ انگڑئی لینے کے لیے ذرہ بازوپھیلائے اور اوپر دیکھا تو معلوم ہواکہ چائے خانے کے کاؤنٹر پر بیٹھا مالک میری طرف دیکھ رہا ہے۔وہ نہیں جانتا کہ اُس کے چہرے پر سجی مصنوعی مسکراہٹ اُس کے چہرے پر غصےکے اثرات اور اُس کے دانت پر لگے کیڑے کو چھپانے سے قاصر ہے ۔ اصولاً تو مجھے اب اس کہانی کا اختتام لکھنا چاہیے ۔ لیکن کیا اس سٹوری کا دی اینڈ ہو چکا ہے ؟
اب میں 28 سال کا ہوں ۔ انگریزی ادب اور وکالت کی ڈگریاں حاصل کر کے عملی زندگی کی دہلیز پر کھڑا ہوں۔ اپنے زمانہ طالب علمی میں نے یہ ضرور سیکھا کہ ہر اہم چیز کو ہائی لائٹ یا انڈر لائن کر لینا چاہیے۔ لہذا میں نے اپنی ٹوٹی ہوئی اور ٹیڑھی ناک کو کالی اور گھنی مونچھوں سے انڈر لائن کر کے اسے کبھی نہ کٹنے دینے کا فولادی ارادہ کر لیا ہے ۔ دُعا گو ہوں کہ خدا مجھے اس ارادے پر پختگی سے قائم رکھے۔ ہاں ! البتہ نومبر 2009 کہ برعکس نومبر 2019 میں میرا پیٹ پتلون کی پابندیوں سے بغاوت ضرور کر چکا ہے ۔
